کلکل کی کاشت
کلکل کی تعریف: کُلکُل یا کِل کِل جس کا نباتاتی نام Cardiospermum
halicacabum ہے ایک بیل دار جڑی بوٹی ہے۔ یہ Sapindaceae خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اسے عام طور
پر اس کے مخصوص غبارے نما پھولوں اور دل کی شکل کے نشان والے بیجوں سے پہچانا جاتا
ہے۔ یہ پودا اپنی طبی خصوصیات کی وجہ سے روایتی ادویات میں اہمیت کا حامل ہے۔
کلکل کی پہچان:
یہ ایک نازک اور تیزی سے بڑھنے والی
بیل ہے۔ اس کی شاخیں پتلی ہوتی ہیں اور یہ سہارے کے ساتھ 7 سے 8 فٹ یا اس سے زیادہ
اونچائی تک چڑھ سکتی ہے۔ اس کے پتے تکونے شکل کے ہوتے ہیں جن کے کنارے کٹے ہوئے
ہوتے ہیں۔ اس پر چھوٹے، سفید یا ہلکے پیلے رنگ کے پھول لگتے ہیں. جن کے بعد
غبارے نما پھل بنتے ہیں۔ یہ پھل پکنے پر بھورے ہو جاتے ہیں اور ہر پھل کے اندر
سیاہ رنگ کے گول بیج ہوتے ہیں جن پر واضح سفید دل کی شکل کا نشان بنا ہوتا ہے۔ ہارویسٹ ہوریزن
کل کل کے مختلف نام:
- بیلون
وائن (Balloon Vine) - انگریزی
- ہارٹ
سیڈ (Heartseed) - انگریزی
- لو ان
اے پف (Love in a Puff) - انگریزی
- قلقل (Qilqil)
- اردو/عربی
- حب القلقل (Habb
al-qulqul) - عربی
- کن
پھٹا (Kanphuta) - ہندی
- کپال
پھوڑی (Kapalphodi) - ہندی
- اڑنا (Ulinja)
- ملیالم
- مدھوکوتان
(Mudakathan) - تامل
مزاج: روایتی طب خاص طور پر آیوروید اور یونانی طب کے مطابق کل کل
کا مزاج سرد اور خشک یا سرد تر ہوتا ہے۔ یہ اپنی سوزش کم کرنے والی اور درد رفع
کرنے والی خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہے۔
کل کل کے فوائد: کل کل
کے پودے کے مختلف حصوں کو روایتی طور پر مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال
کیا جاتا ہے۔ اس کے اہم فوائد میں شامل ہیں.
- جلد
کی بیماریاں: پتوں
کا رس خارش، داد، پھوڑے پھنسیوں اور دیگر جلدی امراض کے علاج کے لیے استعمال
ہوتا ہے۔
- سانس
کے امراض:
اس کے عرق کو کھانسی، دمہ اور
سانس کی نالی کی سوزش میں استعمال کیا جاتا ہے۔
- ہاضمہ
کے مسائل:
روایتی طور پر اسے قبض کشا کے
طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
- کان
کا درد:
پودے کا رس کان کے درد کو دور
کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

- اعصابی
مسائل:
یہ پودا اعصابی نظام کو پرسکون
کرنے اور سکون آور خصوصیات رکھتا ہے۔
- بالوں
کی صحت:
اسے بالوں کے گرنے خشکی اور سر
کی جلد کے دیگر مسائل کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
- زہروں
کا تریاق:
روایتی طور پر اسے سانپ کے کاٹے
یا دیگر زہریلے کیڑوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
کل کل کے بیج: کلکل کے بیج کالے گول اور سخت ہوتے ہیں جن پر دل کی شکل کا
سفید نشان ہوتا ہے۔ یہ بیج پودے کی افزائش نسل کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ان میں
بھی کچھ طبی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
کل کل کی کاشت: کلکل کی کاشت نسبتاً آسان ہے اور یہ مختلف موسمی حالات اور
زمینوں میں اگائی جا سکتی ہے۔
بیج فی ایکڑ: ایک ایکڑ رقبے کے لیے تقریباً 4 سے 5 کلو گرام بیج کافی ہوتا
ہے۔
زمین کا انتخاب: کلکل کی کاشت کے لیے ہر قسم کی زمین موزوں ہے سوائے ان زمینوں
کے جہاں پانی کھڑا رہتا ہو یا جو بہت زیادہ کلر اٹھی ہوں۔ عام، اچھی نکاسی والی
زمین بہترین رہتی ہے۔
تیاری زمین: زمین کو کاشت کے لیے تیار کرنے کے لیے 5 سے 6 مرتبہ ہل اور
سہاگہ چلا کر اسے باریک کر لینا چاہیے۔ زمین کو ہموار ہونا چاہیے تاکہ پانی کی
تقسیم یکساں ہو۔ اگر مٹی کے ڈھیلے ہوں تو پانی لگا کر انہیں توڑ دینا چاہیے۔
موسم کاشت / وقت کاشت: کلکل کی کاشت کا بہترین وقت فروری کے آخر سے مارچ کے آخر تک ہے۔ تاہم اسے اپریل کے مہینے تک بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ گرم اور مرطوب موسم اس کی بڑھوتری کے لیے سازگار ہے۔ سردیوں میں زیادہ کورے سے بیلیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

آب و ہوا: یہ پودا گرم اور نیم گرم آب و ہوا کو پسند کرتا ہے۔ بہت زیادہ
سردی یا بہت زیادہ سایہ اس کی نشوونما اور پھل لگنے پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
اگاؤ کا وقت: مناسب موسمی حالات اور مٹی میں بیج بونے کے بعد عام طور پر ایک
سے دو ہفتے میں اگنا شروع ہو جاتے ہیں اور پہلے دو تین پانیوں تک اگاؤ مکمل ہو
جاتا ہے۔
طریقہ کاشت: کاشت کے لیے دو طریقے استعمال ہو سکتے ہیں:
1. کھیلیوں پر کاشت: دو فٹ کے فاصلے پر کھیلیاں بنائی جاتی ہیں اور ان کے سروں پر 6
سے 7 انچ کے فاصلے پر بیج لگایا جاتا ہے۔ بیج کی گہرائی ایک انچ سے زیادہ نہیں
ہونی چاہیے۔
2. کیاریوں میں کاشت: سات سے آٹھ فٹ چوڑی کیاریاں بنائی جاتی ہیں اور ان کے درمیان
پانی کی نالیاں بنائی جاتی ہیں۔ کیاریوں کے دونوں کناروں پر 7 سے 8 انچ کے فاصلے
پر بیج بویا جاتا ہے۔ بیج ایک انچ سے زیادہ گہرا نہیں ہونا چاہیے۔
جب بیلیں 6 سے 7 انچ کی ہو جائیں تو
انہیں سہارا دینے کے لیے چھڑیاں یا کسی درخت پر چڑھا دینا چاہیے تاکہ بیلیں آپس
میں الجھنے کی بجائے اوپر کی طرف بڑھیں اور انہیں مناسب روشنی اور ہوا ملے۔ اس سے
پھل زیادہ لگتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے کراپ نٹ کا استعما ل بہت بہتر ہے ۔مزید
راہنمائی کے لئے ہارویسٹ ہوریزن کے زرعی ماہر
سے مشورہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
پانی (آب پاشی: پہلا پانی بیجائی کے فوراً بعد دیا جاتا ہے۔ یا پانی لگا کر
چوپا لگایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اگاؤ مکمل ہونے تک ضرورت کے مطابق پانی دیں۔ اگاؤ
مکمل ہونے کے بعد تقریباً 10 سے 15 دن کے وقفے سے پانی دیا جا سکتا ہے۔ زمین کی
قسم اور موسمی حالات کے مطابق پانی کا وقفہ کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ پانی
بیلوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
کھاد: زمین کی تیاری کے وقت گوبر کی گلی سڑی کھاد (7-8 گدے فی ایکڑ)
کا استعمال بہت فائدہ مند ہے۔ اس کے علاوہ زمین کی تیاری کے وقت امونیم سلفیٹ اور
ٹرپل فاسفیٹ کا استعمال پیداوار بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ پودے کی بڑھوتری
کے دوران بھی ضرورت کے مطابق نائٹروجن والی کھاد تھوڑی مقدار میں استعمال کی جا
سکتی ہے۔
جڑی بوٹیوں کا کنٹرول: کلکل کی فصل میں جڑی بوٹیوں کا کنٹرول ضروری ہے کیونکہ یہ پودے کی نشوونما اور پیداوار کو متاثر کرتی ہیں۔ جڑی بوٹیوں کو کنٹرول کرنے کے طریقے درج ذیل ہیں
- دستی
کنٹرول:
فصل اگنے کے ابتدائی مراحل میں
دستی طور پر جڑی بوٹیاں نکالنا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ گوڈی کر کے زمین کو نرم
رکھنا بھی فائدہ مند ہے۔
- مشینی
کنٹرول:
قطاروں میں کاشت کی صورت میں
ہلکی مشینیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔
- کیمیکل
کنٹرول:
جڑی بوٹی مار ادویات کا استعمال
کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا استعمال محتاط طریقے سے اور ہارویسٹ ہوریزن کے
زرعی ماہر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔ کلکل کی فصل کے لیے مخصوص جڑی بوٹی مار
ادویات دستیاب ہو سکتی ہیں ۔جنہیں پودے اگنے سے پہلے یا بعد میں استعمال کیا
جا سکتا ہے۔ تاہم، کیمیکلز کے نام اور استعمال کا طریقہ فصل کی قسم اور مقامی
حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ عام طور پر Broadleaf
weeds کے لیے استعمال ہونے والے سپرے
کارآمد ہو سکتے ہیں لیکن کلکل چونکہ خود ایک بیل ہے۔ اس لیے سپرے کا انتخاب
کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
بیماریاں اور ان کا علاج: کلکل عام طور پر بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھتی ہے۔ لیکن بعض
اوقات اسے کچھ فنگل یا بیکٹیریل بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
- فنگل
بیماریاں:
پتوں پر دھبے یا جڑوں کا گلنا
شامل ہو سکتا ہے۔
- بیکٹیریل
بیماریاں:
پتوں پر دھاریاں یا نرم سڑن شامل
ہو سکتی ہے۔
علاج کا طریقہ کار اور ادویات کے نام:
بیماری کی صورت میں متاثرہ پودوں کو ہٹا دینا چاہیے اور مناسب
فنگس کش یا بیکٹیریا کش ادویات کا سپرے کرنا چاہیے۔ عام فنگس کش ادویات جیسے
مینکوزیب یا کاپر آکسی کلورائیڈ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ علاج کا طریقہ کار اور
دوا کی مقدار بیماری کی شدت اور قسم پر منحصر ہوتی ہے۔ ہارویسٹ ہوریزن کے زرعی ماہر یا کسی مستند زرعی
ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
دیگر بیماریاں اور علاج: کلکل پر وائرل بیماریاں کم ہی حملہ کرتی ہیں۔ اگر کوئی بیماری
نظر آئے تو اس کے علاج کے لیے ہارویسٹ
ہوریزن کے زرعی ماہر یا کسی مستند زرعی ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
کیڑے وغیرہ: کلکل پر کیڑوں کا حملہ عام طور پر شدید نہیں ہوتا ۔ بعض اوقات
پتوں پر چوسنے والے کیڑے (Aphids) یا سفید مکھی کا حملہ ہو سکتا ہے۔
- کنٹرول: معمولی حملہ کی صورت میں نیم کے تیل پر مبنی سپرے یا
گھریلو صابن کا محلول استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شدید حملہ کی صورت میں کم ضرر
رساں کیڑے مار ادویات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیڑے مار دوا کے انتخاب اور
استعمال کے لیے ہارویسٹ ہوریزن کے زرعی ماہر یا کسی مستند زرعی ماہر سے مشورہ
کرنا بہتر ہے۔
برداشت: فصل جون میں پھول نکالنا شروع کرتی ہے اور اس کے بعد ڈوڈے بنتے
ہیں۔ ڈوڈے بننے کے تقریباً دو ماہ بعد پکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پکنے کا عمل اکتوبر
تک جاری رہتا ہے۔
برداشت کا وقت: جب ڈوڈے پک کر بھورے ہو جائیں تو انہیں چن لینا چاہیے۔ ڈوڈے
وقفے وقفے سے پکتے رہتے ہیں۔ اس لیے چنائی بھی وقفے وقفے سے کرنی چاہیے۔ دسمبر کے
آخر تک جب بیلیں سردی سے سوکھ جائیں تو باقی ماندہ ڈوڈوں سمیت پوری بیل کو کاٹ لیا
جاتا ہے۔ پکے ہوئے جو ڈوڈے زمین پر گر جاتے ہیں انہیں بھی جمع کر لینا چاہیے۔
اخراجات: کلکل کی کاشت کے اخراجات زمین کی تیاری، بیج، کھاد، پانی، محنت
مزدوری (جڑی بوٹیاں نکالنے، سہارا دینے، چنائی) اور کیڑے مار ادویات (اگر ضرورت
پڑے) پر منحصر ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک روایتی اور کم دیکھ بھال والا پودا ہے۔ اس
لیے اس کے کاشت کے اخراجات روایتی فصلوں کے مقابلے میں کم ہو تےہیں۔ تاہم اس کا
انحصار کاشت کے پیمانے اور استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر ہے۔تھوڑی کاشت پر کم
اور زیادہ کاشت پر زیادہ وسائل کے مطابق اخراجات ہوتے ہیں ۔ پھر بھی کم از کم
اخراجات 60000 روپے اور زیادہ سے زیادہ 1 لاکھ روپے تک ہیں ۔ ٹھیکہ شامل نہیں ہے ۔
آمدن:
کلکل کے ڈوڈے (یا بیج) کی مارکیٹ میں قیمت عام طور پر اچھی
ہوتی ہے کیونکہ یہ طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ فی کلو کل کل کی قیمت خرید
کسان سے 2024 میں 5000 روپے سے 7800 روپے تک رہی ہے ۔ اگرچہ فی ایکڑ پیداوار دیگر فصلوں کے مقابلے میں
کم ہو سکتی ہے (150-200 کلوگرام فی ایکڑ)، لیکن اس کی زیادہ قیمت کی وجہ سے یہ
منافع بخش ثابت ہو سکتی ہے۔ آمدن کا انحصار پیداوار کی مقدار اور مارکیٹ میں
موجودہ قیمت پر ہے۔
پھر بھی اگر اس کی قیمت فروخت کسان سے
5000 روپے کلو ہو اور پیداوا 100 کلو بھی ہو تو 500000 لاکھ روپے فی ایکڑ کم از
کم آمدن ہوتی ہے ۔ غلہ منڈی میں آج اس کا ریٹ 7000 روپے کلو ہے ۔
پنسار سٹور پر اس کا ریٹ 110000 روپے کلو ہے ۔ اور دراز آن لائن سٹور پر اس کا
ریٹ 11750 روپے کلو ہے ۔ یہ ریٹ وہ ہیں جو
ہم خریدیں گے ۔ جو ہم فروخت کریں گے وہ
میں نے آج 5000 روپے بتائے ہیں ۔ اچھے حالات میں کل کل فی ایکڑ 220 کلو گرام
پیداوار دیتی ہے ۔
فروختگی اور مارکیٹنگ: کلکل کے پودے کے خشک شدہ ڈوڈے یا بیج عام طور پر جڑی بوٹیاں
خریدنے والے مقامی ڈیلرز، پنساریوں، اور دوا ساز کمپنیوں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔
اس کی مارکیٹنگ روایتی طریقہ کار کے ذریعے ہوتی ہے۔ بڑے پیمانے پر کاشت کی صورت
میں براہ راست دوا ساز کمپنیوں سے رابطہ کرنا زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ آن لائن
پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی فروختگی کے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
کل کل سے بننے والی ادویات کے نام:
کلکل کو مختلف روایتی ادویات، خاص طور پر آیورویدک اور یونانی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے بننے والی کچھ ادویات گٹھیا، جلد کی بیماریوں، اور سانس کے امراض کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ تاہم، مخصوص تجارتی ادویات کے نام مختلف ہو سکتے ہیں کیونکہ کمپنیاں اسے اپنے فارمولوں میں شامل کرتی ہیں۔ یہ براہ راست خام مال کے طور پر بھی فروخت ہوتی ہے۔کلکل کے پودے سے براہ راست ادویات کے
علاوہ بہت زیادہ تجارتی پراڈکٹس نہیں بنتیں۔ اسے بنیادی طور پر خام مال کے طور پر
ہی فروخت کیا جاتا ہے جو مزید کارروائی کے بعد ادویات یا دیگر مرکبات میں استعمال
ہوتا ہے۔ کچھ جگہوں پر اس کے پتوں کو سبزی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
کسان کا مستقبیل: کلکل کی کاشت کسانوں کے لیے ایک متبادل اور منافع بخش فصل ثابت
ہو سکتی ہے. خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں روایتی فصلیں کم منافع بخش ہوں۔ اس
کی کم دیکھ بھال کی ضرورت اور نسبتاً اچھی مارکیٹ قیمت اسے چھوٹے پیمانے کے کسانوں
کے لیے پرکشش بناتی ہے۔ تاہم مارکیٹ میں طلب اور قیمت میں اتار چڑھاؤ کسان کے
مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ منظم مارکیٹنگ اور ویلیو ایڈیشن (مثلاً خشک کرنے
اور پیکنگ) مستقبل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
کل کل اور ہارویسٹ ہوریزن:
"ہارویسٹ ہوریزن" ایک زرعی ادارہ ہے ۔ ہارویسٹ ہوریزن کے زرعی ماہرین کسانوں
کی ہر فصل کی کاشت و برداشت میں مکمل راہنمائی کرتے ہیں ۔ خاص کر ٹنل کاشتکاری
۔ادویاتی پودا جات کی کاشت۔ سبزیات کی کاشت اور باغات کی دیکھ بھال ۔ اس کے علاوہ
کسان کی فصل کو مارکیٹ تک لے جا کر اچھی
قیمت دلانے میں مکمل راہنمائی کرتے ہیں ۔ کسی بھی مشورہ یا راہنمائی کے لئے
ہارویسٹ ہوریزن کے زرعی ماہر سے رابطہ کریں ۔ رابطہ کے لئے سوشل میڈیا ۔ ویب سائیٹ
۔ ای میل ۔ وٹس ایپ ۔ کال وغیرہ کے زرائع استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔ کاشت سے برداشت
تک کسان کے ساتھ .










Good
ReplyDeleteGood post
ReplyDeleteNice post
ReplyDeleteBoht achi post he sab g
ReplyDeletegood
ReplyDeleteزبردست پوسٹ
ReplyDeleteGood
ReplyDeleteGood post
ReplyDeleteIts good information
ReplyDeleteHum india hoon. Kil kil ko kashat kertay hain hum esay crop net ar lgatay haim. Aur har sal nahut aisa kmatay hain ap ny urdu mn sikhany ki koshish ki hy liken aj ka kissan sikhna he nahee chahta. thanks
ReplyDeleteBahut achi maloomat hain sir
ReplyDeleteBahut behtreen maloomat
ReplyDeleteGood post
ReplyDeleteGood sir
ReplyDeleteali
ReplyDeleteجیgood post
ReplyDeletebehtreen post
ReplyDeletemashaALLAH
ReplyDeletebehtreen Post hay janab
ReplyDelete