Cassia absus
چاکسو یا چا سکو
چاکسو ایک طبی جڑی بوٹی ہے جس کے بیج خاص طور پر آنکھوں کے امراض میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا پودا چھوٹا
تقریباً ایک گز اونچا ہوتا ہے۔
تعریف:
چاکسو ایک سالانہ جڑی بوٹی ہے۔جس کا نباتاتی نام absus Cassia ہے۔ یہ اپنے طبی فوائد خصوصاً آنکھوں کی صحت کے لیے جانی جاتی ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں خود بخود اگ جاتا ہے ۔ جانور خاص طور پر بکریاں اسے شوق سے کھاتی ہیں ۔ سرائیکی میں اسے چاسکُو اور گندی بوٹی بھی کہتے ہیں ۔ مختلف زبانوں میں اس کے مختلف نام ہیں ۔ جیسا کہ ۔۔۔۔۔
عربی: چشمِیزج
فارسی: چشخام
بنگالی: بن کلتھی
سنسکرت: چاکسو
ہندی: بن کلتھی
گجراتی: چمیٹر
مراٹھی: چنوڑ، بلیا
تامل: کرو کانم
تیلگو: چنوپال، وِٹلو
انگریزی: Chasku seeds
سندھی: جوڑتا
چنور
سرائیکی : چاسکو
اور گندی بوٹی
چاکسو کے مختلف اجزاء اور ان کے
استعمال درج ذیل ہیں:
- بیج (Chasku Seeds):
- آنکھوں
کے امراض:
یہ سب سے اہم استعمال ہے۔
آنکھوں کی بینائی کو طاقت دینے، آنکھوں سے پانی بہنے، کمزوری نظر، دھندلا
دکھائی دینے اور جالے پڑنے جیسے مسائل کے لیے ادویات میں استعمال ہوتے ہیں۔
- عموماً
بیجوں کو پوٹلی میں باندھ کر سونف کے پانی میں پکا کر استعمال کیا جاتا ہے۔
- پتے:
- سوجن
دور کرنے کے لیے:
بیرونی طور پر پتوں کو سوجن کم
کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
- بیج
کی گری (پیس کر):
- جلدی
امراض (چرم روگ):
خاص طور پر داد کے علاج کے لیے
بیجوں کی گری کو پیس کر لگایا جاتا ہے۔
- زخم
بھرنے کے لیے:
بیجوں کی گری کو پیس کر لیپ
کرتے رہنے سے زخم بھر جاتے ہیں۔
- پودا
:
- اگرچہ
بنیادی استعمال بیج اور پتوں کا ہے، لیکن پورے پودے کو بعض روایتی ادویات
میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے مخصوص استعمال کے بارے میں معلومات کم
عام ہیں۔
·
چاکسو کے پھولوں کے استعمال کے بارے میں روایتی طب میں زیادہ
واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ بنیادی طور پر اس کے بیج اور پتوں کو دواؤں کے
مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
·
تاہم بعض جڑی بوٹیوں میں پھولوں کو بھی طبی خواص کے حامل سمجھا
جاتا ہے۔ اگرچہ چاکسو کے معاملے میں پھولوں کا مخصوص استعمال اتنا عام نہیں ہے۔ ہو
سکتا ہے کہ مقامی روایات یا کسی خاص نسخے میں ان کا استعمال ہوتا ہو۔
- پودا:
چاکسو کا پودا عموماً ایک سال کا
ہوتا ہے اور قد میں تقریباً ایک گز (تین فٹ) تک بلند ہو سکتا ہے۔ اس کا تنا
اور شاخیں باریک اور روئیں دار ہوتی ہیں۔ یہ عموماً سخت اور بنجر زمینوں میں
بھی اگنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور برسات کے موسم میں اس کی نشوونما زیادہ ہوتی
ہے۔
پتے: اس کے پتے شاخوں کے اوپری حصوں پر لگتے ہیں اور شکل میں پنواڑ (Senna) کے پتوں سے ملتے جلتے ہیں۔ یہ لگ بھگ ایک سے دو انچ لمبے اور سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔
- پھول: چاکسو
کے پھول چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور منجریوں پر لگتے ہیں۔ یہ منجریاں ایک سے دو
انچ لمبی ہو سکتی ہیں۔ پھولوں کا رنگ پیلا یا لالی مائل پیلا ہوتا ہے۔ یہ پھول نسبتاً غیر
نمایاں ہوتے ہیں۔
پھلی: پھولوں کے بعد پھلیاں لگتی ہیں جو تقریباً ڈیڑھ انچ لمبی ہوتی ہیں اور کچھ ٹیڑھی ہو سکتی ہیں۔ ان پھلیوں کے اندر پانچ سے چھ بیج موجود ہوتے ہیں۔
روایتی طب میں چاکسو کو گرم اور خشک
مزاج کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ جدید کیمیائی تحقیقات سے اس کے بیجوں سے دو اہم اجزاء
چاکسین اور آیوچاکسین، علیحدہ کیے گئے
ہیں۔ یہ اجزاء ہی اس کے طبی فوائد کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔
لائف سائیکل:
چاکسو ایک سالانہ جڑی بوٹی ہے۔ اس کا لائف سائیکل موسم برسات سے شروع ہوتا ہے۔ بیج اگتے ہیں، پودا بڑھتا ہے.پھول اور پھل لگتے ہیں، اور پھر پودا خشک ہو جاتا ہے اور بیج زمین میں گر جاتے ہیں جو اگلے موسم میں پھر اگتے ہیں۔ پھول اور پھل اگست ستمبر میں آتے ہیں۔
بیج کی پہچان :
کاشت کا طریقہ:
1. تیاری زمین: چاکسو سخت زمین میں بھی اگ سکتا ہے، لیکن اچھی پیداوار کے لیے زرخیز اور اچھی نکاسی والی زمین بہتر ہے۔ زمین کو ہل چلا کر نرم کر لیں اور جڑی بوٹیوں سے پاک کر لیں۔
2. وقت کاشت: جون-جولائی اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ ویسےاس کا پودا پورا سال کسی بھی وقت اگ سکتا ہے ۔
3. کاشت کے طریقے: بیجوں کو چھڑک کر یا قطاروں میں بویا جا سکتا ہے۔ قطاروں میں بونے سے دیکھ بھال آسان رہتی ہے۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ تقریباً 30-45 سینٹی میٹر اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 15-20 سینٹی میٹر رکھیں۔
4. بیج فی ایکڑ: تقریباً 4-6 کلوگرام بیج فی ایکڑ کافی ہوتا ہے۔ یہ بیج کے معیار اور بونے کے طریقے پر منحصر ہے۔
5. مزیدہاروسٹ ہوریزن کے زرعی ماہر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔
پانی:
برسات کے موسم میں عام طور پر پانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کھاد:
پودے کے روئیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔ بیج کی پیداوار کو نہیں۔
سپرے:
چاکسو میں عام طور پر زیادہ بیماریاں یا کیڑے نہیں لگتے۔ تاہم اگرکوئی مسئلہ نظر آئے تو کسی ماہر زراعت کے مشورے سے مناسب سپرے کیا جا سکتا ہے۔مزید ہاروسٹ ہوریزن کے زرعی ماہر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔
کچھ فنگس کی بیماریاں لگ سکتی ہیں جن کے لیے مناسب فنجی سائیڈ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بیماری کی صحیح تشخیص کے لیے
ماہر زراعت سے رابطہ کریں۔ مزید ہاروسٹ ہوریزن کے زرعی ماہر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔
جڑی بوٹیوں کا کنٹرول:
کاشت کے ابتدائی مراحل میں جڑی بوٹیوں کا کنٹرول ضروری ہے۔ گوڈی کر کے یا مناسب جڑی بوٹی مار دوا استعمال کر کے
جڑی بوٹیوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ پینڈی وغیرہ
برداشت:
جب پھلیاں پک جائیں اور بیج کالے ہو جائیں تو فصل برداشت کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔
وقت برداشت:
عام طور پر اگست ستمبر میں پھول اور پھل آتے ہیں۔ تو برداشت ستمبر اکتوبر تک کی جا سکتی ہے۔ یہ وقت موسمی حالات پر
منحصر ہے۔ موسمی حالات کے مطابق یہ فصل 4 سے 5 ماہ کی ہے ۔
پیداوار:
· وزن فی ایکڑ آمد: پیداوار مختلف عوامل پر منحصر ہے۔لیکن اوسطاً 300-500 کلوگرام بیج فی ایکڑ حاصل
کل اخراجات اور آمدن:
یہ زمین کی تیاری، بیج، کھاد، آبپاشی، جڑی بوٹیوں کا کنٹرول، برداشت اور مارکیٹنگ کے اخراجات پر منحصر ہے۔ آمدن مارکیٹ میں بیج کی قیمت پر منحصر ہوگی۔ ان کا تخمینہ لگانا مشکل ہے کیونکہ یہ علاقائی اور مارکیٹ کی صورتحال کے لحاظ سے
مختلف ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک متفق اندازہ اور مختلف سابقہ پیداوار کا اندازہ ہے کہ کل خرچ 130000 روپے ہے اس میں
زمین کا 6 ماہ کا ٹھیکہ 70 ہزار شامل ہے ۔
آمدن اس کا بیج 300 کلو سے 500 کلو تک آتا ہے ۔ یعنی اگر کم سے کم ریٹ فی کلو 2000 روپے ہو اور وزن 300 کلو
آئے تو کل رقم 600000 روپے بنتی ہے اور خرچہ نکال کر صافی منافع 45000روپے ہے ۔
سال 2024 اور 2023 میں چاکسو کے بیج کا ریٹ مارکیٹ میں 6000 روپے فی کلو سے زیادہ رہا ہے ۔ اس کے مطابق
کاشت کاروں نے 8 لاکھ سے 15 لکھ تک کمائے ہیں ۔ 2025 کے بعد کی مارکیٹ کا کوئی اندازہ ن ہیں لگایا جا سکتا ۔ حالات
کے مطابق ۔۔۔۔۔
مارکیٹنگ:
چاکسو کے بیج عام طور پر دیسی ادویات بنانے والی کمپنیوں اور پنساریوں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔ آپ براہ راست ان
سے رابطہ کر سکتے ہیں یا مقامی منڈیوں میں بھی فروخت کر سکتے ہیں۔
اگر چاکسو کی مانگ اچھی ہو اورکاشتکار مناسب قیمت پر اپنی پیداوار فروخت کر سکیں تو اس کی کاشت ایک منافع بخش
کاروبار ثابت ہو سکتی ہے۔ طبی اہمیت کی وجہ سے اس کی مانگ برقرار رہنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
مہر غلام یاسین آرائیں ۔ کہروڑ پکا







mashaALLAH Ap ki tmam posts bahut Achi aur maloomati hoti hain .
ReplyDeletejanab main nay ap ki post parh ker ajwain lgai hay mujhy bahut faida howa hay ab ap ager beej fraham kra sakeen to mn yeh bhi lga lyta hoon
ReplyDeleteMashaALLAh its Good
ReplyDeletegood Post
ReplyDeleteVery Nice Post
ReplyDeleteAp ki post behtreen hay
ReplyDeleteboht achi post he sab
ReplyDeleteMashaAllah behtreen post hay
ReplyDeletemashaALLAH
ReplyDelete