پاکستان میں کروندا یعنی کونکر بیری کی کامیاب کاشت

 کونکربیری (Carissa spin arum) کی کاشت 

کونکربیری، جسے مقامی طور پر کروندا بھی کہا جاتا ہے، ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو اپنے لذیذ اور غذائیت سے بھرپور پھلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ پودا گرم اور خشک آب و ہوا میں پھلتا پھولتا ہے اور پاکستان سمیت دنیا کے کئی حصوں میں پایا جاتا ہے۔


پہچان

کونکربیری ایک گھنی، کانٹے دار جھاڑی ہوتی ہے جو عام طور پر 2 سے 5 میٹر اونچی ہوتی ہے۔ اس کے پتے چمکدار سبز، بیضوی اور گہرے ہوتے ہیں۔ اس پر چھوٹے، سفید، ستارے نما پھول لگتے ہیں جو خوشبودار ہوتے ہیں۔ پھل گول یا بیضوی شکل کے ہوتے ہیں اور پکنے پر گہرے ارغوانی یا سیاہ رنگ کے ہو جاتے ہیں۔ ان پھلوں میں دودھیا رس ہوتا ہے جو پکنے پر غائب ہو جاتا ہے۔ پودے پر تیز اور مضبوط کانٹے ہوتے ہیں جو اسے چرنے والے جانوروں سے بچاتے ہیں۔

مختلف نام

کونکربیری کو مختلف زبانوں میں کئی ناموں سے جانا جاتا ہے:

  • اردو/ہندی: کروندا، کرمرد
  • انگریزی: Conker berry, Bush Plum, Karanda, Carissa
  • پشتو: گرانڈہ
  • سندھی: کرندی
  • عربی: کروندا
  • سائنسی نام: Carissa spinarum / Carissa congesta / Carissa carandas
  1. Carissa spinarum: یہ جنگلی قسم ہے جو چھوٹے پھل دیتی ہے اور کانٹے زیادہ ہوتے ہیں۔
  1. Carissa carandas: یہ کاشت کی جانے والی قسم ہے جس کے پھل بڑے اور بہتر ذائقے کے ہوتے ہیں۔ اس کی مزید کئی اقسام بھی ہیں۔
  • زمین کا انتخاب: اسے مختلف قسم کی زمینوں میں اگایا جا سکتا ہے، لیکن اچھی نکاسی والی ریتلی یا دو مٹی اس کے لیے بہترین ہے۔ یہ کھاری اور پتھریلی زمینوں میں بھی اگ سکتا ہے۔

  • موسم: اسے گرم اور خشک موسم پسند ہے۔ شدید سردی اور زیادہ بارش والے علاقوں میں اس کی کاشت مشکل ہو سکتی ہے۔
  • آبپاشی: یہ پودا کم پانی میں بھی گزارا کر سکتا ہے، لیکن پھلوں کی بہتر پیداوار کے لیے پھول آنے اور پھل لگنے کے دوران باقاعدہ آبپاشی ضروری ہے۔
  • بیج سے کاشت:
    بیجوں کو پہلے نرسری میں لگایا جاتا ہے اور جب پودے تھوڑے بڑے ہو جائیں تو انہیں کھیت میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ بیجوں سے اگنے والے پودوں میں پھل دیر سے آتے ہیں اور پیداوار میں یکسانیت نہیں ہوتی۔
  • قلم سے کاشت: قلم (cutting) کے ذریعے کاشت زیادہ مقبول اور موثر طریقہ ہے کیونکہ اس سے پودے جلد پھل دینا شروع کر دیتے ہیں اور معیاری پھل پیدا ہوتے ہیں۔ تندرست پودے کی 6 سے 9 انچ لمبی قلم کو جڑ پیدا کرنے والے ہارمون میں ڈبو کر لگایا جاتا ہے۔

کاشت کے علاقے

کونکربیری بنیادی طور پر گرم اور خشک علاقوں میں اگتا ہے۔ یہ جنوبی ایشیا (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا)، افریقہ، اور آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے خشک اور نیم خشک علاقوں میں خودرو پودے کے طور پر پایا جاتا ہے۔ یہ پتھریلی اور ریتلی زمینوں میں بھی آسانی سے اگ جاتا ہے۔

اقسام

کونکربیری کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں سے کچھ تجارتی پیمانے پر کاشت کی جاتی ہیں۔ عام طور پر دو اہم اقسام ہیں:

کاشت کا طریقہ

کونکربیری کی کاشت نسبتاً آسان ہے کیونکہ یہ ایک سخت جان پودا ہے۔

کونکربیری کو بیج اور قلم دونوں طریقوں سے کاشت کیا جا سکتا ہے۔

فی ایکڑ تعداد: ایک ایکڑ میں تقریباً 500 سے 800 پودے لگائے جا سکتے ہیں، جو پودوں کے درمیان اور قطاروں کے درمیان فاصلے پر منحصر ہے۔ عام طور پر 8-10 فٹ کا فاصلہ رکھا جاتا ہے۔

    اجزاء  :
  • وائٹامن سی: پھلوں میں وافر مقدار میں ہوتا ہے۔
  • آئرن: خون کی کمی کو دور کرنے میں مددگار۔
  • پیکٹن: ہاضمے کے لیے مفید۔
  • کارڈیک گلائکوسائیڈز: جڑ میں پائے جاتے ہیں جو دل کے امراض میں مفید ہو سکتے ہیں۔
  • فینولکس اور فلیوونائڈز: اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کے حامل۔
  • غذا: پکے ہوئے پھل تازہ کھائے جاتے ہیں یا ان سے اچار، چٹنی، مربہ، جیلی اور شربت بنائے جاتے ہیں۔ کچے پھل سبزی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
  • طب: اسے قدیم آیورویدک اور یونانی طب میں استعمال کیا جاتا ہے:
  • معدے کے مسائل: اسہال، بدہضمی، اور پیٹ کے درد کے علاج میں۔
  • بخار: بخار کم کرنے میں مددگار۔
  • شوگر: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید۔
  • خون کی کمی: آئرن کی موجودگی کی وجہ سے۔
  • جلد کے امراض: بیرونی طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
  • جگر اور گردے کے مسائل: بعض روایتی ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔
  • باغبانی: اس کے کانٹوں کی وجہ سے اسے باڑ (hedge) کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے تاکہ جانوروں کو کھیتوں میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
  • صنعتی استعمال: اس کے پھلوں سے رنگ بھی نکالا جاتا ہے۔
  • غذائیت سے بھرپور: وائٹامن سی، آئرن، اور دیگر معدنیات سے مالا مال۔
  • ہاضمے کے لیے مفید: فائبر کی موجودگی ہاضمے کو بہتر بناتی ہے۔
  • اینٹی آکسیڈنٹ: جسم کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچاتا ہے۔
  • قوت مدافعت بڑھاتا ہے: وائٹامن سی کی وجہ سے۔
  • خون کی کمی دور کرتا ہے: آئرن کی وافر مقدار کی وجہ سے۔
  • دل کی صحت: روایتی طور پر دل کے امراض میں مفید سمجھا جاتا ہے۔
  • ذیابیطس: خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مددگار۔
  • کچے پھل زہریلے: کچے پھل میں ایک دودھیا مادہ ہوتا ہے جو زہریلا ہو سکتا ہے اور معدے میں تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ انہیں پکائے بغیر نہیں کھانا چاہیے۔
  • حاملہ خواتین: حاملہ خواتین کو اس کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
  • زیادہ مقدار: کسی بھی چیز کی زیادہ مقدار نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اس سے بنائی جانے والی ادویات

کونکربیری سے مختلف روایتی ادویات بنائی جاتی ہیں

  • پھلوں کا عرق/شربت: بخار، اسہال اور خون کی کمی کے لیے۔
  • جڑوں کا سفوف/قہوہ: دل کے امراض، بخار اور پیٹ کے کیڑوں کے لیے۔
  • پتوں کا لیپ: جلد کی سوزش اور زخموں کے لیے۔
  • چھال کا عرق: بخار اور ہاضمے کے مسائل کے لیے۔
  •  مزید  : اس سے  سرکہ  بھی بنایا جاتا ہے ۔ جو  معدہ ۔ لبلہ ۔ جگر کےلئے مفید جانا جاتا ہے ۔


کل اخراجات کاشت (فی ایکڑ تخمینہ):
  • زمین کی تیاری15,000 روپے
  • پودے/قلمیں- 40,000 روپے (قسم اور تعداد کے لحاظ سے)
  • پودے لگانے کی مزدوری10,000 روپے
  • کھاد اور کیڑے مار ادویات20,000 روپے (سالانہ)
  • آبپاشی کا نظام/پانی20,000 روپے (سالانہ)
  • دیگر متفرق اخراجات10,000 روپے
  • کل تخمینہ (پہلے سال) 1,15,000 روپے

کل پیداوار :

کونکربیری کی فی ایکڑ پیداوار مختلف عوامل پر منحصر کرتی ہے، جیسے کہ قسم زمین کا معیار آبپاشی اور دیکھ بھال۔ عام طور پرایک بالغ پودا سالانہ 10 سے 20 کلو گرام تک پھل دے سکتا ہے۔ اس حساب سے ایک ایکڑ سے سے 10 ٹن (5000 سے 10000 کلو گرام) تک پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔  
آمدن (فی ایکڑ تخمینہ):
  • کونکربیری کے پودے 2-3 سال میں پھل دینا شروع کر دیتے ہیں۔
  • پھلوں کی قیمت 80 سے 200 روپے فی کلو گرام تک ہو سکتی ہے (منڈی اور معیار کے لحاظ سے)
  • اگر ایک ایکڑ سے 5000 کلو گرام (5 ٹن) اوسط پیداوار حاصل ہو اور اوسط قیمت 100 روپے فی کلو گرام ہو تو کل آمدن 5,00,000 روپے ہو سکتی ہے۔
  • اس میں سے اخراجات نکالنے کے بعد خالص منافع 3,85,000 سے 4,40,000 روپے تک ہو سکتا ہے۔
  • اچھی دیکھ بھال اور مارکیٹ کے حالات کے مطابق یہ آمدن مزید بڑھ سکتی ہے۔

طب یونانی میں  استعمال ہونے والے اجزاء:

کونکربیری کے پھل، پتے، جڑیں اور چھال سبھی طبی خصوصیات رکھتے ہیں۔ ان میں پائے جانے والے اہم اجزاء یہ ہیں

مقدار خوراک ایک دفعہ میں:

پکے ہوئے پھل عام طور پر ایک وقت میں 100 سے 200 گرام تک کھائے جا سکتے ہیں۔ اگر ادویاتی مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو کسی ماہر طبیب  کے مشورے کے بغیر زیادہ مقدار میں استعمال نہ کریں۔


جدید فارماکولوجی میں بھی اس پر تحقیق جاری ہے تاکہ اس کے اجزاء سے نئی ادویات تیار کی جا سکیں۔

یہ پودا نہ صرف غذائی اہمیت کا حامل ہے بلکہ اقتصادی طور پر بھی کاشتکاروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر خشک اور بنجر علاقوں میں جہاں دیگر فصلیں اگانا مشکل ہوتا ہے۔


غلام یٰسین آرائیں - ہاروسٹ ہوریزن  کہروڑ پکا 

کاشت سے برداشت تک کسان کے ساتھ 


 

Comments

  1. افضل لشاریJuly 3, 2025 at 9:57 PM

    ماشاءاللہ بہت پیارامضمون ہے.

    ReplyDelete
  2. شوکت کمبوہJuly 3, 2025 at 9:59 PM

    اایسی مکمل راہنمائی بہت اردو میں بہت کم ملتی ہیں.

    ReplyDelete
  3. kamal maloomat janab

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

کلکل کی کاشت

ادویاتی پودوں کی کاشت

موسم گرما میں کاشت ہونے والے ادویاتی پودوں کی کاشت