ملٹھی کی کاشت Cultivation of Liquorices roots
ملٹھی کی کاشت Liquorices roots- sweet wood
ملٹھی جسے "میٹھی جڑ" بھی کہا جاتا ہے، ایک قدیم اور قیمتی جڑی بوٹی ہے ۔جو اپنے بیش بہا طبی فوائد کی وجہ سے دنیا بھر میں استعمال ہوتی ہے۔طب یونانی ، طب نبوی ، آیورویدک اور دیگر طبوں کی ادویات میں اسےخاص مقام حاصل ہے اور یہ جلد کے مسائل، یرقان، السر، اور سانس کی بیماریوں کے علاج میں مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
مختلف نام :
بوٹا نیکل :
Glycyrrhiza glabra گلے
سائی ڑیزا
خاندانی نام :
Leguminosae لیگو مائینو سی
انگریزی : Liquorices roots, sweet wood
اردو : ملٹھی
پشتو : کھوگاولگی – پیشین
سیندھی : میٹھی کٹھی
عربی : اس لس سوس
پنجابی : مُلیٹی
سرائیکی : مُل وَٹھی
مُلٹھی
یہ پودا بنیادی طور پر ایشیا اور
جنوبی یورپ کا ہے اور یونان، چین، مصر، پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں بھی پایا جاتا ہے۔ بھارت میں اس کی کاشت پنجاب اور
ہمالیہ کے قریبی علاقوں میں ہوتی ہے۔پاکستان میں اس کی کاشت تمام گرم مرطوب علاقوں میں کامیابی سے کی جا رہی ہے ۔
موسم اور زمین
:
ملٹھی کی بہترین کاشت کے لیے مناسب
موسم اور زمین کا انتخاب ضروری ہے۔
- درجہ
حرارت:
- 15 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ
حرارت اس کے لیے بہترین ہے۔
- بارش:
- 50 سے 100 سینٹی میٹر سالانہ بارش والے علاقے اس کے لیے
موزوں ہیں۔
- بوائی
کا درجہ حرارت:
- 8 سے 18 ڈگری سینٹی گریڈ۔
- کٹائی
کا درجہ حرارت:
- 15 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ۔
- زمین:
- یہ
مختلف قسم کی زمینوں میں اُگ سکتی ہے۔ چاہے وہ ہلکی تیزابی ہوں یا ہلکی
الکلائن۔
مٹی کا پی ایچ 3 سے 7 تک ہونا چاہیے۔ ریتلی زرخیز مٹی (پی
ایچ 3 سے 8) تک بہترین ہے۔ زمین میں پانی کھڑا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ جڑوں
کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مشہور اقسام
ملٹھی کی چند مشہور اقسام یہ ہیں
o
ہسپانوی اور اطالوی ملٹھی
o
روسی ملٹھی
o
فارسی اور ترکی ملٹھی
·
جی یورالینسس
(G. uralensis): یہ وسطی ایشیا، چین کے شمال مغرب اور
مشرق، منگولیا اور
انڈیا میں
ملتی ہے
·
جی انفلیٹا
(G. inflata): یہ صرف چین کے شمال مشرق اور شنجیانگ
(Xinjiang) علاقے میں پائی جاتی ہے۔
زمین کی
تیاری اور بوائی:
زمین کی تیاری:
ملٹھی
کی کاشت کے لیے زمین کو اچھی طرح برابر اور ہل چلانا ضروری ہے تاکہ مٹی
باریک ہو جائے اور پانی کے نکاسی کا نظام بہتر ہو۔ کیونکہ زیادہ پانی جڑوں کو سڑا
سکتا ہے۔
بوائی کا وقت :
سرد پہاڑی
علاقوں میں نرسری جنوری میں لیٹ فروری میں لگائی جاتی ہے اور پودے فروری سے مارچ
میں لگائے جاتے ہیں ۔ پنجاب میں اور گرم علاقوں میں نرسری جولائی میں اورپودے اگست میں منتقل کئے جاتے
ہیں ۔ براہ راست زمین میں لگانے کے لئے فروری اور اگست
علاقوں کے مطابق بہتر ہے ۔
فاصلہ:
پودوں کے درمیان ڈیڑھ فٹ اور لائن
سے لائن کا فاصلہ اڑھائی فٹ رکھیں ۔
بوائی کا طریقہ:
آپ
ملٹھی کو براہ راست زمین میں تنے یا جڑ کے ٹکڑوں سے بو سکتے ہیں۔ یا پہلے
نرسری میں پودے تیار کر کے بعد میں انہیں کھیت میں منتقل کر سکتے ہیں۔ بہترین
طریقہ نرسری سے کاشت کرنا ہے ۔
بیج کی مقدار:
اچھی
نشوونما کے لیے فی ایکڑ 100
سے 120 کلو گرام تنے کے ٹکڑوں کا استعمال کریں۔ جن پر کم از کم
دو آنکھ لازمی ہوں ۔ سائز کم از کم 6 انچ لازمی ہو۔ سائز کم یا زیادہ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے بس کم از کم دو
آنکھ لازمی ہوں ۔ کھیت میں 6
سے 8 سینٹی میٹر گہرے گڑھے بنا کر ان میں یہ ٹکڑے لگائیں۔ یہ نرسری کا طریقہ ہے ۔
نرسری سے کاشت بہتر ہوتی ہے۔ ڈائیریکٹ کاشت سے اگاؤ اور پیداوار پر اثر پڑتا ہے۔
نرسری اور
پودوں کی منتقلی:
زمین کو اچھی طرح تیار کرنے کے بعد
تیار شدہ نرسری جن میں کم از کم 2 سے 3
کلیاں موجود ہوں۔ یا کم از کم پھوٹنے کے بعد پودا 30 سے 40 دن کا ہو ۔زمین میں
کھیلیاں نکال ک ر مناسب فاصلہ پر پر پودے لگائیں اور بعد میں پانی لگا دیں ۔ (
اڑھائی فٹ کے بیڈ ) ۔
جب تک جڑیں مضبوط نہ ہو جائیں
باقاعدگی سے ہلکا پانی دیتے رہیں۔
کھاد اور
دیکھ بھال:
کھاد:
ملٹھی کو بہت زیادہ کھاد کی ضرورت
نہیں ہوتی۔ اگر آپ کی زمین کمزور ہے تو زمین کی تیاری کے وقت گوبر کی کھاد ڈال
کر اسے مٹی میں اچھی طرح ملا دیں۔ مٹی کی نمی کو برقرار رکھنے کے لیے ملچنگ
کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔ملچنگ کے لئے گندم ،چاول یا کسی بھی گھاس کی پرالی
کا استعمال کریں ۔
جڑی بوٹیاں ہٹائیں:
پہلے
سال میں 3 سے 4 بار گوڈی اور جڑی بوٹیوں کی صفائی بہت ضروری
ہے تاکہ پودے کو مناسب خوراک مل سکے۔ دوسرے سال میں 2 بار گوڈی کافی ہوتی ہے۔ اس پر اگر سپرے کرنا ہو تو نوکیلے پتوں کو مارنے والی ادویات کا سپرے کیا جائے ۔
پانی :
گرمیوں میں
ہر 20 سے 45 دن بعد
پانی دیں۔ سردیوں میں عام طور پر پانی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔لیکن پھر بھی اگر
ضرورت پڑے تو 2 سے 3 ماہ میں ایک بار پانی لگا دینا چائیے ۔
زیادہ پانی
کھڑا نہ ہونے دیں ورنہ جڑیں
سڑ سکتی ہیں۔
کیڑوں اور
بیماریوں سے بچاؤ
ملٹھی کو چند عام کیڑوں اور بیماریوں
کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لیکن کوشش کی جاتی ہے کہ ادویاتی پودا جات کو زہر یا کیمیکلز
کا سپرے نہ کیا جائے ۔ آرگینک طریقہ جات سے بیماریوں اور کیڑوں کو کنٹرول کرنا
چاہئے ۔ انتہائی مجبوری میں ایک آدھ کیمیکل کا سپرے کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔
کیڑے:
·
مکڑی کے کیڑے:
o
یہ گرمیوں میں پتوں پر حملہ کرتے ہیں۔ پتوں پر پانی کا
چھڑکاؤ ان سے نجات دلا سکتا ہے۔
·
مائٹس ( جوں ):
یہ کیڑا بھی گرمیوں میں پودے پر حملہ آور ہو کر رس
چوستا ہے اور پودے کو مختلف جگہوں پر نقصان پہنچاتا ہے۔یہ بہت زیادہ تعداد میں
ہوتے ہیں ۔ کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ برف کا ٹھنڈا پانی اسے کنٹرول کر سکتا
ہے ۔ روزانہ برف کے ٹھنڈےپانی کا سپرے
کرائیں ۔
·
سلگ
(Slugs) :
o
گھونگے یا سپیاں حملہ آور ہو کر سبز پتوں کو کھاتے ہیں۔ پودوں
کے گرد تانبے کی تار یا ڈائیٹومی سیئس ارتھ
(Diatomaceous Earth)
کی رکاوٹ بنا کر انہیں دور رکھا جا
سکتا ہے۔اس کے بچاؤ کے لئے راکھ کا چھٹہ بہتر ہو تا ہے ۔
·
کیٹرپلر:
o
یہ بھی پتوں کو کھاتے ہیں۔ نیم کے تیل کا سپرے یا بی سیلس تھورین جین سس (Bacillus thuringiensis) کا استعمال کریں۔
بیماریاں:
·
پاؤڈری میلڈیو
(Powdery Mildew) :
o
یہ پتوں پر سفید دھبے بناتی ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے پوٹاشیم
بائی کاربونیٹ کا چھڑکاؤ مؤثر ہے۔ مزید راہنمائی اور مشورہ کے لئے ہارویسٹ
ہوریزن اور سمارٹ گرین ایگری کلچر کے زرعی
ماہر سے رابطہ کریں ۔
کٹائی :
کٹائی کے بعد:
کٹائی
کے بعد جڑوں کو اچھی طرح دھوپ میں سکھائیں اور پھر ان کی درجہ بندی کریں۔
مکمل طور پر خشک ہونے کے بعد انہیں ہوا بند تھیلوں میں پیک کریں۔ اور فروخت
کے لئےبھیج دیں ۔
ملٹھی کا استعمال :
ملٹھی
کے اجزاءِ ترکیبی
ملٹھی میں پائے جانے والے اہم اجزاء
(Constituents) درج ذیل ہیں:
- گلائسیریزین (Glycyrrhizin)
- ایسپاراجین (Asparagin)
- شوگر (Sugar)
- سٹارچ (Starch)
- ایسڈ ریزن (Acid resin)
- گم (Gum)
- میوسی لیج (Mucilage)
- فاسفورک ایسڈ (Phosphoric acid)
- سلفیورک ایسڈ (Sulphuric acid)
- میلِک ایسڈ (Malic acid)
- پوٹاشیم (Potassium)
- کیلشیم (Calcium)
- مینگنیز (Manganese)
ملٹھیسے بننے والی انگریزی ادویات
- ڈیمولسینٹ (Demulcent): یہ
اندرونی جھلیوں کو آرام پہنچاتی اور انہیں سکون دیتی ہے۔
- ایکس پیکٹورنٹ (Expectorant): یہ
بلغم کو خارج کرنے میں مدد کرتی ہے۔
- لکزا ٹیو (Laxative): یہ
قبض کشا ہے اور آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتی ہے۔
- ٹانک (Tonic): یہ
جسم کو طاقت دیتی ہے اور عام کمزوری کو دور کرتی ہے۔
- ایمولینٹ (Emollient): یہ
جلد کو نرم اور ہموار بناتی ہے۔
- ایمی ناگوگ (Emmenagogue): یہ
ماہواری کو باقاعدہ بنانے میں مدد کرتی ہے۔
- ڈائیوریٹک (Diuretic): یہ
پیشاب آور ہے اور جسم سے اضافی پانی کو خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ملٹھی
کو مختلف بیماریوں اور حالتوں میں استعمال کیا جاتا ہے
- پیدائشی پیشاب کی نالی کی بیماریاں (Genito-urinary diseases)
- گلے کی خراش (Sore throat)
- بچھو کا ڈنک (Scorpion sting)
- مثانے اور
جگر کی بیماریاں (Diseases of bladder & liver)
- کھانسی اور پھیپھڑوں کی شکایات (Cough and lungs complaint)
- قے (Vomiting)
- دمہ (Asthma)
- برونکائٹس (Bronchitis)
- پیٹ کی سوزش (Abdominal colitis)
خوراک (Doses)
اصلاح کرنے والے اجزاء
(Correctives)
ملٹھی کے کچھ مضر اثرات کو کم کرنے یا اس
کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے ان اجزاء کو استعمال کیا جاتا ہے:
- گلِ سُرخ /
گلاب (Rosa damascene)
- کتیرا /
ٹریگاکانتھ (Sterculia urens)
- عناب / ججوب (Zizyphus vulgare)
اہم یونانی ادویاتی مرکبات :
ملٹھی کو مختلف یونانی دواؤں میں اہم جزو
کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
- شربتِ اعجاز
- لعُوقِ سَپِستان
- لعُوقِ
املتاس
- جوارِش اَصلُ
السُّوس
- لعُوقِ نازل
- سفوف لوچ
- دوائے صندل
- حب آواز کشا
غلام یٰسین آرائیں کہروڑ پکا
کاشت سے برداشت تک کسان کے ساتھ

1.png)







good
ReplyDelete