Kali Jiri - Vernonia Anthelmintica
کالی زیری کی کاشت
کالی زیری جسے سائنسی زبان میں "Vernonia anthelmintica" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک اہم نباتاتی پودا ہے جو صدیوں سے روایتی
ادویات خاص طور پر یونانی طب میں استعمال ہو رہا ہے۔ یہ اپنی کیڑے مار سوزش کش اور
بلغم صاف کرنے والی خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہے۔
کالی زیری کا تعارف:
کالی زیری کو کالی جیری ۔کالا زیرہ۔ تلخ زیرہ۔ جنگلی
زیرہ۔ وغیرہ ناموں سے جانا جاتا ہے ۔
کالی زیری کا پودا عموماً دو سے تین فٹ تک اونچا ہوتا ہے۔
لیکن اگر اسے اچھی زرخیز زمین اور مناسب ماحول ملے تو یہ 1.5پانج سے 6
فٹ تک بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس کے پتے نسبتاً لمبے تنگ اور نوک دار ہوتے
ہیں۔ کالی زیری کے پھولوں کا رنگ کالی مرچ کے چھوٹے دانوں جیسا ہوتا ہے اور اس کے
بیج زیرے کے دانوں کے برابر چھوٹے اور گول شکل کے ہوتے ہیں۔ ان بیجوں کا ذائقہ
قدرے تلخ ہوتا ہے اور ان کا رنگ بھورا ہوتا ہے۔ کالی زیری کو انگریزی میں بھی "Vernonia" ہی کہا جاتا ہے۔ اور یہ اپنے مفید کیمیائی اجزاء کی وجہ سے یونانی طب
میں کثرت سے استعمال کی جاتی ہے۔
بیج کا وزن فی ایکڑ :
ایک ایکڑ
زمین میں کاشت کے لیے تقریباً 3 کلو سے 4 کلوگرام صاف صحت
مند اور اچھی قسم کا بیج کافی ہوتا ہے۔
بوائی کا وقت:
کالی زیری کی کاشت کے لیے سال میں دو اوقات بہترین سمجھے
جاتے ہیں۔
مون سون کی فصل
1 جولائی سے 15
اگست تک۔ اس وقت کی کاشت بارشوں کے ساتھ مل کر پودوں کی اچھی نشوونما کو یقینی
بناتی ہے۔
موسم بہار کی فصل :
1 فروری سے 28 فروری تک۔ اس وقت کی کاشت کے لیے آبپاشی کا بہتر انتظام
ضروری ہے۔
زمین کی تیاری:
کالی زیری کی کاشت کے لیے زمین کا اچھی طرح سے تیار ہونا نہایت ضروری
ہے تاکہ بیجوں کو صحیح نشوونما ملے اور پودے مضبوط بن سکیں۔
ہل چلانا اور بھربھرا کرنا: زمین میں 5 سے 6 بار گہرے ہل چلائیں تاکہ مٹی اچھی طرح نرم بھربھری
اور ہوا دار ہو جائے۔ اس عمل سے زمین میں موجود جڑی بوٹیاں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔
ہموار کرنا: زمین کو اچھی طرح ہموار لازمی کر لیں تاکہ آبپاشی کے دوران پانی ہر جگہ یکساں مقدار میں
پہنچے اور پانی کی غیر ضروری رکاوٹ سے بچا جا سکے۔
کھاد کا استعمال:
اسے کیمیائی کھادوں کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے اور پودوں کو ضروری غذائی اجزاء فراہم
کرنے کے لیے ایک سے دو ٹن خوب اچھی طرح سڑی ہوئی گوبر کی کھاد فی ایکڑ
کے حساب سے زمین میں اچھی طرح ملا دیں۔ سڑی ہوئی گوبر کی کھاد کا استعمال پودوں کو
بیماریوں اور کیڑوں سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ زمین کی صحت
کو بہتر بناتی ہے۔
طریقہ کاشت:
کالی زیری کی کاشت مختلف طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ جن میں کیاریاں
بنا کر ۔ کھیلیاں بنا کر اور چھٹہ لگا کر چھٹہ وتر میں
لگانا ہے ۔ خشک زمین میں بیج ڈال کر پانی لگانے کے طریقہ کو استعمال نہین کیا گیا ۔
زمین میں 1.5 سے 2 فٹ (تقریباً 45 سے 60 سینٹی میٹر) کے فاصلے پر
چھوٹی چھوٹی کیاریاں (ridges) بنائی جاتی ہیں۔
بیج سے بیج کا فاصلہ 9 انچ اور لائن سے لائن
کا فاسلہ ڈیڑھ فٹ سے دو فٹ تک رکھیں ۔ بیج کو چٹکی بھر کر لگائیں ۔
یعنی دس سے 20 بیگ ایک جگہ لگائیں ۔ یہ طریقہ کھیل پر کاشت کے لئے ہے ۔ دیگر طریقہ
جات میں صرف بیج کی گہرائی کا خیال رکھنا ہے ۔
بیج کو آدھے انچ (تقریباً 1.25 سینٹی میٹر) سے زیادہ گہرا نہیں بونا
چاہیے۔ ورنہ وہ اگ نہیں سکے گا کیونکہ گہرائی میں آکسیجن اور روشنی کی کمی ہو سکتی
ہے۔
چھٹہ (Broadcasting) وتر میں:
اس طریقے میں بیج کو تیار شدہ زمین پر بکھیر دیا جاتا ہے اور پھر
ہلکی روٹاوویٹر یا سہاگہ پھیرا جاتا ہے تاکہ بیج مٹی میں دب جائیں۔ یہ طریقہ وہاں
اپنایا جاتا ہے جہاں پانی کی دستیابی یقینی ہو یا بارشیں متوقع ہوں۔
آبپاشی (پانی دینا):
کالی زیری کو پانی کی مناسب مقدار درکار ہوتی ہے۔ خاص طور پر اگاؤ
اور پھول آنے کے مراحل میں۔
پہلا پانی: بیج بونے کے فوراً بعد
پہلا پانی دیا جاتا ہے تاکہ بیجوں کو اگاؤ کے لیے ضروری نمی مل سکے۔
دوسرا پانی: پہلے پانی کے ایک ہفتے
بعد دوسرا پانی دینا چاہیے۔ اس کے بعد اگاؤ شروع ہو جاتا ہے۔ دوسرا پانی اگر مئی
میں کاشت کیا ہے تو موسم اور گرمی کی شدت کو دیکھ کر لگائیں ۔ یعنی دن
کم یا زیادہ کرنی کی گنجائش ہے
بعد کے پانی: اس کے بعد موسم اور زمین
کی نمی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تقریباً 15 دنوں کے وقفے سے پودوں کو پانی لگاتے
رہنا چاہیے۔ فروری کاشت میں مارچ کے بعد موسم کے مطابق پانی ایک ہفتہ کے وقفہ سے
لگائیں ۔ فصل کو پانی بیج بننے تک لگانے ہیں ۔ بعد مین دونو موسم کی کاشت شدہ فصل
کے پانی روک دینے ہیں ۔ اور ہفتہ میں ایک دفعہ اپنی زرعی کنسلٹنٹ کو فصل کا معائنہ
لازمی کراتے رہیں یا وٹس ایپ پر رابطہ میں رہیں ۔
پانی دیتے وقت احتیاط: پانی دیتے وقت اس بات کا
خاص خیال رکھیں کہ پانی کیاریوں یا کھیلیوں کے اوپر سے نہ گزرے ورنہ بیج بہہ کر
اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے اور اگاؤ متاثر ہو گا۔ اگر کم پانی دیا جائے تو بھی بیجوں
اور چھوٹے پودوں تک مناسب مقدار میں نمی پہنچنی چاہیے تاکہ وہ اچھی طرح بڑھ سکیں۔
برداشت (فصل کی کٹائی):
فصل کی کل مدت 120 دن سے 150 دن ہے ۔
کالی زیری کی فصل کی کٹائی اس وقت کی جاتی ہے جب بیج مکمل طور پر پک
کر تیار ہو جائیں۔
پھول اور بیج بننا: نومبر کے شروع میں پودوں
پر پھول آنا شروع ہو جاتے ہیں اور ان میں بیج بننا شروع ہو جاتا ہے۔
پکنے کا وقت: دسمبر کے آخر تک موسم
گرما میں بوئی گئی فصل پک کر تیار ہو جاتی ہے۔ اگر فصل فروری میں بوئی گئی ہو تو
وہ جون کے مہینے میں پک کر تیار ہوتی ہے۔
کٹائی کا عمل: جب بیج اچھی طرح پک جائیں
اور سخت ہو جائیں تو پودوں کو کاٹ کر یا ہاتھوں سے بیجوں کو جھاڑ کر نکال لیا جاتا
ہے۔
وقفوں وقفوں سے برداشت: ایک ہی دفعہ میں سارے بیج نہیں پکتے، لہٰذا کٹائی وقفوں وقفوں سے کی
جاتی ہے تاکہ تمام بیجوں کو مکمل پکنے کا موقع ملے۔ اور پیداوار پوری آئے ۔
اخراجات :
اس فصل کو کھادوں اور سپرے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔ کچھ علاقوں میں
بہت تھوڑی کھاد و سپرے کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔
کل اخراجات بمع ٹھیکہ زمیں ایک
لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہوتا ۔
پیداوار:
اچھی دیکھ بھال اور سازگار حالات میں ایک ایکڑ سے تقریباً 500 سے 600 کلوگرام (تقریباً
12 سے 15 من) کالی زیری کے بیج حاصل ہوتے ہیں۔ یہ پیداوار زمین کی زرخیزی آب و ہوا
اور کاشتکاری کے طریقوں پر منحصر ہے۔اچھی محنت کر کے اس کی پیداوار بڑھائی جا سکتی
ہے ۔
آمدن قیمت کے لحاظ سے :
کالی
زیری کا مارکیٹ میں ریٹ مختلف ہوتا ہے۔ لیکن پچھلے 5 سالوں کی اوسط
قیمت فروخت کے حساب سے 800 روپے کم سے کم قیمت فروخت ہے
۔ اور وزن بھی ہم کم سے کم 8 من لگاتے ہیں ۔ 32000 روپے من کے ساتھ اس
کی کل آمدن 256000 روپے پاکستانی بنتی ہے ۔ (حالانکہ کہ آج
اگر ہم خرینا چاہیں تو آج 6 جولائی کو اس کا ریٹ 1500 روپے کلو سے 2200
روپے کلو ہے ۔ )
صافی منافع کم از کم 150000 روپے
سے زیادہ ہے ۔ کسی قسم کے مشورہ یا رائے دینے کے لئے کمنٹس میں لکھیں ۔
مارکیٹنگ
زیری کی مارکیٹنگ کے لیے کئی راستے موجود
ہیں۔
مقامی منڈیاں: کسان اپنی پیداوار مقامی اناج منڈیوں میں فروخت کر سکتے ہیں۔
چارہ فروشی: زیری کا خشک چارہ مال مویشی کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے اور اس کی بھی
اچھی مارکیٹ موجود ہے۔
غذائی صنعت: زیری کومصالحہ بنانے ۔ آٹا۔دلیا اور دیگر غذائی مصنوعات بنانے والی
کمپنیاں بھی خریدتی ہیں۔
براہ راست صارفین: کچھ کسان سوشل میڈیا یا مقامی دکانوں کے ذریعے براہ راست صارفین کو
بھی اپنی پیداوار فروخت کرتے ہیں جس سے انہیں بہتر منافع ملتا ہے۔
برآمد: اگر معیار اچھا ہو تو بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی
کالی زیری کی طلب موجود ہے۔
غلام یاسین آرائیں ۔ ہارویسٹ ہوریزن کہروڑ
پکا ۔ وٹس ایپ نمبر 00923477834554



.jpg)
MashaAllah Bahut achi aur malomati post hay .
ReplyDeleteGood sir bahut achi tahreer hay
ReplyDeleteBehtreen ustad e muhtram
ReplyDeleteBhai bahut achi maloomat dee hain shukria
ReplyDeleteAisa elm bahut km milta hy .
ReplyDelete